Ahmad Faraz Live

احمد فراز کی شاعری، عشق تو ایک کرشمہ ہے

عشق تو ایک کرشمہ ہے ، فسوں ہے، یوں ہے
یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں، یوں ہے، یوں ہے

جیسے کوئی درِدل پر ہو ستادہ کب سے
ایک سایہ نہ دروں ہے، نہ بروں ہے، یوں ہے

تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے
عشق کا نام خِرد ہے نہ جَنوں ہے، یوں ہے

اب تم آئے ہو میری جان تماشا کرنے
اب تو دریا میں تلاطم نہ سکوں ہے، یوں ہے

تو نے دیکھی ہی نہیں دشتَ وفا کی تصویر
نوکِ ہر خار پے اک قطرئہ خوں ہے، یوں ہے

ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے
روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے کہ یوں ہے، یوں ہے

شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فراز
یہ بھی اک سلسلہءِ کن فیکوں ہے، یوں ہے

About Arshad

Arshad
ارشد فاروق بٹ کالم نگار اور بلاگر ہیں، چیچہ وطنی نیوز پر آپ اردو ادب اور کالمز کی کیٹیگریز اپڈیٹ کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے