ادیبہ مبارک، جبر کا موسم اور احساس

تحریر : ارشد فاروق بٹ

خود اپنے حق کہ لیے بھی جھگڑ سکے نہ کبھی
دل اس طرح کا ملا کہ لڑ سکے نہ کبھی ..!!!!!

چیچہ وطنی شہر جہاں گزشتہ ایک ماہ سے ہر طرف ادیبہ مبارک کی باتیں ہیں، 6 سالہ ادیبہ کس حال میں ہوگی؟ ہم اس ننھی کلی کے لیے گمشدہ کا لفط استعمال کریں یا مغویہ کا یا خدانخواستہ کوئی اور؟ اس کے والدین کیسے جی رہے ہونگے؟ ہر پل کیا سوچتے ہونگے؟

جبر کے موسم میں ہم صرف سوچ ہی سکتے ہیں؟ ادیبہ کی گمشدگی کا کرب صرف اس کے والدین ہی جھیل رہے ہیں، ہم صرف ہمدردی کر سکتے ہیں، کچھ آنسو بہا سکتے ہیں. احساس کر سکتے ہیں.

ادیبہ کی گمشدگی کے ایک ماہ بعد بھی مقامی پولیس کے پاس کوئی خبر نہیں. تحقیقات جہاں سے شروع ہوئی تھیں وہیں کہیں موجود ہیں اور آگے نہیں بڑھ رہیں. اور اس پر ایس پی انوسٹی گیشن کا بیان کہ احتجاج سے انکی توجہ منقسم ہو جائے گی اور کیس پر نہیں رہے گی.

جبر کا موسم ہے اور صبح سیر پر جاتے بھکاری گینگ کی درجنوں لگژری گاڑیاں نظر آتی ہیں، جو معصوم بچوں اور عورتوں کو سڑکوں پر بٹھا جاتی ہیں اور سرشام ڈیوٹی ختم ہونے پر واپس لے جاتی ہیں. اوور ہیڈ برج، کالج روڈ، مصروف بازاروں، رہائشی کالونیوں اور منڈیوں میں بھکاریوں کو فوج کس کی اجازت سے دھندہ چلائے ہوئے ہے؟ کیا ادیبہ کی گمشدگی ایسے کسی گینگ کی کارستانی تو نہیں؟ مگر کیا کریں بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟ سوال کون اٹھائے؟

حال ہی میں قصور کی زینب شہید کے والد محمد امین انصاری بھی ادیبہ مبارک کے گھر پہنچے ہیں اور بدحال والدین سے اظہار ہمدردی کیا ہے. کراچی کی ایک این جی او روشنی ہیلپ لائن جو کہ گمشدہ بچوں کی تلاش اور ان کے لیے آواز بلند کرنے کا کام کرتی ہے اسکے عہدیدار بھی متاثرہ خاندان سے ملنے آئے ہیں. لیکن ادیبہ کی آواز ابھی ہمارے شہر کے سیاسی نمائندوں تک نہیں پہنچ سکی.

ایک زمانے میں چیچہ وطنی جنگل میں لکڑی چوری اور کرپشن پر زبردست تحریک چلی، فیصلہ کیا گیا کہ اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کی آمد پر ایک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی. میاں صاحب آئے بھی اور چلے بھی گئے لیکن ریلی کہیں نظر نہیں آئی.

جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا سب سے بڑا جہاد ہے . ریلی نکالنے کے لیے وقت کے فرعونوں سے ٹکر لینا پڑتی ہے. اور اب ادیبہ کے لیے آواز اٹھانے اور احتجاج کا بیڑہ تحریک احساس نے اٹھایا ہے. دعا ہے جبر کے موسم میں احساس سرخرو ہو جائے. اور مولا بچھڑوں کو ملا دے.

#JusticeforAdeeba #SaveAdeeba #Chichawatni #AdeebaMubarak

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.