Home / شخصیت / شخصیت : چوہدری طفیل جٹ
chichawatni politicians

شخصیت : چوہدری طفیل جٹ

ارشد فاروق بٹ

سیاست چیچہ وطنی میں متحرک ترین کردار چوہدری محمد طفیل جٹ نے 80 کی دہائی میں سیاست کا باقاعدہ آغاز کیا۔ اور 1983 اور 1987 میں دو مرتبہ بلدیہ چیچہ وطنی کے کونسلر منتخب ہوئے۔
سیاست میں موثر انٹری کے بعد 1991 میں چوہدری برادران نے رائے گروپ سے سیاسی راہیں جدا کر لیں۔
1997 کے انتخابات میں انہوں نے پیپلز پارٹی کی طرف سےصوبائی امیدوار کے طور پر الیکشن لڑا اور 7 ہزار پانچ سو پندرہ ووٹ حاصل کیے۔ تاہم کامیابی ان سے کوسوں دور تھی.

نئی صدی کا سورج چوہدری برادران کے لیے کامیابیوں کی نوید لیے طلوع ہوا۔2001 میں وہ اتحاد گروپ کے پلیٹ فارم سے تحصیل ناظم منتخب ہوئے۔ بیگم شہناز جاوید کا ضلعی نظامت میں جانے کا فیصلہ غلط ثابت ہوا جو کہ بعد ازاں شیخ خاندان کی سیاست کے زوال کی وجہ بنا، جبکہ تحصیل نظامت میں بیگم شہناز جاوید کی جانب سے چوہدری طفیل جٹ کی حمایت ان کی کامیابی کا باعث بنی اور شہر کو متبادل سیاسی قیادت میسر آئی.
تحصیل ناظم بننے کے بعد چوہدری طفیل جٹ نے غیر معمولی کامیابیاں سمیٹیں اور 2005 میں وہ دوبارہ تحصیل ناظم منتخب ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے: شخصیت ، بیگم شہناز جاوید

چوہدری محمد طفیل جٹ 19 ستمبر 2016 کو این اے 162 (موجودہ این اے 149) کے ضمنی انتخابات میں رائے مرتضی اقبال کے مقابلے میں 73 ہزار 813 ووٹ لے کر ایم این اے منتخب ہوئے۔

25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات میں انہوں نے رائے مرتضی اقبال کے خلاف الیکشن لڑا تاہم کامیاب نہ ہو سکے. رائے مرتضی اقبال کے 137632 ووٹوں کے مقابلے میں انہوں نے 111999 ووٹ حاصل کیے.
ضمنی الیکشن 2018 میں انہوں نے پی پی 201 سے پیر سید صمصام شاہ بخاری کے خلاف الیکشن لڑا تاہم جیت اس بار بھی ان کا مقدر نہ بن سکی. صمصام بخاری کے 54699 ووٹوں کے مقابلےمیں ان کے حاصل کردہ ووٹ 47675 تھے.

کم وبیش بیس سالہ اقتدار کے بعد چوہدری برادران کے اقتدار کا سورج مکمل طور پر غروب ہو چکا ہے. آج سے محض دو سال قبل چوہدری طفیل جٹ ایم این اے، اور ان کے دو بھائی چوہدری ارشد جٹ اور چوہدری حنیف جٹ ایم پی اے تھے.
ان کی ناکامی میں سب سے بڑی وجہ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی جانب سے اعلان کردہ منصوبہ جات کا شروع نہ ہونا، زبانی جمع خرچ، ناقص سوشل میڈیا ٹیم، شہر میں امن و امان کی خراب صورتحال اور طاقت کا ایک ہی در پہ ارتکاز شامل ہیں.
تاہم ان کی ناکامی سے شہر چیچہ وطنی ایک مؤثر اپوزیشن سے محروم ہو گیا ہے. طاقت کا ارتکاز اب چوہدری برادران کے ہاتھ سے نکل کر رائے ہاؤس کی جانب ہو چکا ہے. چوہدری برادران کا آئندہ سیاسی لائحہ عمل کیا ہوگا اس کا انحصار بڑی حد تک رائے برادران کی کارکردگی پر ہوگا جس میں وہ ابھی تک ناکام دکھائی دیتے ہیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے