پی پی 202 چیچہ وطنی : ملک نعمان لنگڑیال کے حلقے میں ضمنی الیکشن کی بازگشت

پی ٹی آئی کے منحرف رکن ملک نعمان لنگڑیال کے ڈی سیٹ ہونے کے بعد سیاسی پنڈتوں نے حلقے پر نظریں جما لی ہیں۔

تحریر: ارشد فاروق بٹ
‏الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب اسمبلی کے جن 20 حلقوں میں ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری کیا ہے ان میں پی پی 202 بھی شامل ہے۔
 
پی ٹی آئی کے منحرف رکن ملک نعمان لنگڑیال کے ڈی سیٹ ہونے کے بعد سیاسی پنڈتوں نے حلقے پر نظریں جما لی ہیں۔ ضمنی الیکشن 17 جولائی کو ہوگا۔
 
آئیے نظر ڈالتے ہیں اس حلقے کے محل وقوع ، مختصر سیاسی تاریخ، اور متوقع امیدواران پر۔
 
1۔ محل وقوع
 
الیکشن 2018 سے قبل نئی حلقہ بندیوں کے کچھ اثرات اس حلقے پی پی 202 پر بھی پڑے تھے۔ نئی حلقہ بندیوں کے تحت پرانے صوبائی حلقے پی پی 226 کا نام تبدیل کر کے پی پی 202 کیا گیا۔
 
اس نئی حلقہ بندی میں تحصیل چیچہ وطنی کے قانونگو حلقے اقبال نگر، شاہکوٹ اور اوکانوالہ بنگلہ شامل ہیں۔
 
نئی حلقہ بندیوں کے بعد اس صوبائی حلقے کی کل آبادی 342731 ہے جبکہ ٹوٹل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 196381 ہے۔
 
2۔ سیاسی تاریخ
 
الیکشن 2008
اس حلقے سے 2008 کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ملک اقبال احمد لنگڑیال نے 29955 ووٹ حاصل کیے۔ ( ملک اقبال احمد لنگڑیال مرحوم ملک نعمان لنگڑیال کے والد ہیں)
 
دوسرے نمبر آنے والے امیدوار جمشید عالم چوہدری تھے جنہوں نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لیا اور 15373 ووٹ حاصل کیے۔
 
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار میاں سیف الرحمن جوئیہ تیسرے نمبر پر رہے جن کے حاصل کردہ ووٹ 15172 تھے۔
 
چوتھے نمبر پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ملک طالب حسین لنگڑیال تھے جنہوں نے کل 14922 ووٹ حاصل کیے۔ اس طرح سے یہ مقابلہ خاصا سنسنی خیزرہا اور دو کی بجائے چار امیدواران نے اچھے خاصے ووٹ حاصل کیے۔
 
دیگر امیدواران میں ایم کیو ایم کے ذوالفقار علی نے 222 اور آزاد امیدوار آمنہ نوید نے 87 ووٹ حاصل کیے۔
 
الیکشن 2012
بعد ازاں ملک اقبال احمد لنگڑیال جعلی ڈگری پر نااہل ہوئے اور ضمنی انتخابات دسمبر 2012 میں ہوئے۔ جن میں مسلم لیگ ن کے چوہدری حنیف جٹ نے 42994 ووٹ لے کر فتح حاصل کی۔ (چوہدری حنیف جٹ سابق ایم این اے چوہدری طفیل جٹ کے بھائی ہیں)
 
مسلم لیگ ق کی نسیم لنگڑیال دوسرے نمبر پہ رہیں۔ (محترمہ نسیم لنگڑیال ملک نعمان لنگڑیال کی والدہ ہیں) ان کے حاصل کردہ ووٹ 35369 تھے۔ تیسرے نمبر پر جمشید عالم چوہدری تھے جنہوں نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا اور17500 ووٹ حاصل کیے۔ اس طرح سے یہ مقابلہ تین امیدواروں کے درمیان سنسنی خیز رہا۔
 
الیکشن 2013
2013 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کے امیدوار چوہدری حنیف جٹ نے اس حلقے سے 49542 ووٹ حاصل کیے اور ایم پی اے منتخب ہوئے۔
 
جبکہ ان کے مدمقابل پاکستان مسلم لیگ ق کی امیدوار آمنہ نوید نے 40715 ووٹ حاصل کیے اور دوسرے نمبر پر آئیں ۔ (محترمہ آمنہ نوید ملک نعمان لنگڑیال کی ہمشیرہ ہیں)
 
تیسرے نمبر پر آنے والے امیدوار پاکستان تحریک انصاف کے چوہدری عاصم نواز گجر تھے جنہوں نے 6004 ووٹ حاصل کیے۔
 
پاکستان پیپلز پارٹی کے چوہدری محمد منشاء باٹھ نے 2238 ووٹ حاصل کیے اور چوتھے نمبر پر رہے۔
 
میجر (ر) محمد غلام سرور نے جماعت اسلامی کی طرف سے ان انتخابات میں حصہ لیا اور صرف 62 ووٹ حاصل کیے۔
 
الیکشن 2018
سال 2012 کے ضمنی اور سال 2013 کے عام انتخابات میں شکست کے بعد سال 2018 کا سورج ایک بار پھر لنگڑیال خاندان کے لیے کامیابی کی نوید لیے طلوع ہوا۔
 
2018 کے عام انتخابات میں مسلم لیگی رہنماؤں کی آپسی چپکلش نے پی ٹی آئی کے لیے میدان صاف کر دیا۔ پی ٹی آئی کے امیدوار ملک نعمان لنگڑیال نے اس حلقے سے 57190 ووٹ حاصل کیے اور ایم پی اے منتخب ہوئے۔
 
جبکہ ان کے مدمقابل پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار شاہد منیر نے 44196 ووٹ حاصل کیے اور دوسرے نمبر پر آئے ۔ (شاہد منیر سابق ایم این اے چوہدری منیر ازہر کے فرزند ہیں)
 
تیسرے نمبر پر آنے والے امیدوار پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد منشاء تھے جنہوں نے 5023 ووٹ حاصل کیے۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار سمیت دیگر کسی امیدوار نے اس الیکشن میں قابل ذکر ووٹ حاصل نہیں کیے۔ اس طرح سے یہ انتخاب دو امیدواران کے درمیان رہا۔
 
3۔ ضمنی الیکشن 2022 : پی پی 202 میں متوقع امیدوار
 
سابقہ تاریخ کا سرسری جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس حلقے میں لنگڑیال خاندان کا کلہ مضبوط ہے۔ تاہم مسلم لیگ ن کے شاہد منیر بھی بازی پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
 
ابھی یہ واضح نہیں کہ مسلم لیگ ن اس ضمنی الیکشن میں ٹکٹ ملک نعمان لنگڑیال کو جاری کرتی ہے یا الیکشن 2018 کے رنر اپ شاہد منیر کو۔
 
موجودہ حالات میں ٹکٹ کے لیے شاہد منیر بہتر آپشن ثابت ہوں گے۔ ملک نعمان لنگڑیال کو پی ٹی آئی کے ناراض ووٹرز کے عتاب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
 
ملک نعمان لنگڑیال کے منحرف ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے پاس پی پی 202 میں کوئی مضبوط امیدوار نہیں رہا۔ متوقع امیدواروں میں میجر (ر) محمد غلام سرور یا سابق ایم این اے چوہدری سعید گجر کے فرزند عادل گجر ہو سکتے ہیں جو کہ ملک نعمان لنگڑیال یا شاہد منیر کے مقابلے میں کمزور امیدوار ہیں۔
 
امپورٹڈ امیدوار فارمولا
مذکورہ امیدواران کے علاوہ پی پی 201 کی سیاسی قیادت صمصام بخاری کی طرز پہ پی پی 202 میں امپورٹڈ امیدوار بھی لانچ کر سکتی ہے۔
 
اس صورت میں سابق ایم این اے رائے حسن نواز کے فرزند رائے اقبال اور سابق ایم این اے چوہدری طفیل جٹ کے بھائی چوہدری حنیف جٹ پی پی 202 میں پنجہ آزمائی کر سکتے ہیں اور دونوں خاندانوں کے لیے یہ حلقہ نیا نہیں۔
You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.