پرنسپل ساہیوال میڈیکل کالج کے زیر سرپرستی تھیلیسیمیا آگہی سیمینار

ساہیوال (چیچہ وطنی نیوز – ارشد فاروق بٹ) بچوں میں تھیلیسیمیا کے مرض کو روکنے کیلئے ضروری ہے کہ عوام کو اس بیماری کی پیچیدگیوں کے بارے میں آگہی دی جائے اور معاشرے میں قریبی رشتہ داروں میں شادی کے رواج کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

پاکستان میں ہر سال 6 ہزار بچے تھیلیسیمیا کی خطرناک بیماری کا شکار ہور ہے ہیں جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔ یہ بات پرنسپل ساہیوال میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمد عمران حسن خان نے تھیلیسیمیا سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس میں پنجاب تھیلیسیمیا پروینشن انسٹی ٹیوٹ لاہور کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر حسین جعفری، ایڈیشنل ڈائریکٹر یاسمین احسان، شعبہ گائنی کی سربراہ ڈاکٹر صفیہ اظہار، شعبہ پیڈیاٹرک کے سربراہ ڈاکٹر ساجد مصطفی، ایم ایس ڈاکٹر عبدالوحید، شعبہ یورالوجی کے سربراہ ڈاکٹر نثار احمد سعیدی، ڈاکٹر آمنہ عروج، ڈاکٹر امبر نواز اور تھیلیسیمیاپراجیکٹ ساہیوال کے انچارج سہیل شکور نے بھی شرکت کی۔

ڈاکٹر حسین جعفری نے بتایا کہ پنجاب حکومت بچوں کی اس جان لیوا بیماری کی روک تھام کیلئے متعدد اقدامات اٹھار ہی ہے جس میں شادی سے پہلے تھیلیسیمیا ٹیسٹ اور معاشرے کو آگہی دینا بھی شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں 60 ہزار تھیلیسیمیا مریض ہیں جن میں ہر سال 6 ہزار مریضوں کا اضافہ ہو رہا ہے جو قابل تشویش امر ہے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر صفیہ اظہار اور ڈاکٹر ساجد مصطفی نے کہا کہ تھیلیسیمیا کی روک تھام میں شعبہ گائنی اور پیڈیاٹرک کا بنیادی کردار ہے اور ان شعبوں میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کو چاہیے کہ وہ مرض کے نقصانات بارے والدین کی کونسلنگ بھی کریں تاکہ اس مرض پر قابو پایا جا سکے۔

انہوں نے ساہیوال میں تھیلیسیمیاکے مرض کی تشخیص کیلئے ہیماٹولوجی لیب کے قیام کو سراہا اور اسے مرض کے کنٹرول میں اہم سنگ میل قرار دیا جس سے بیماری میں مبتلا بچوں کی فوری تشخیص کرکے ان کا علاج کیا جا سکے گا۔ سیمینار سے تھیلیسیمیا میں مبتلا ایک بچے محمد اسرار نے بھی خطاب کیا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.