یونیورسٹی آف ساہیوال میں خواتین کے حقوق پر سیمینار

ساہیوال (چیچہ وطنی نیوز – ارشد فاروق بٹ) خواتین کی ترقی و خوشحالی اور انہیں ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرکے ہی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی ممکن ہے. اور ضروری ہے کہ خواتین کو ان کے بنیادی حقوق دئے جائیں.

خواتین کو کام کرنے والی جگہ پر تحفظ فراہم کرنے کیلئے تمام سرکاری، نیم سرکاری اور نجی اداروں میں ضابطہ اخلاق آویزاں کرنا اور مجاز اتھارٹی کی تقریری قانوناً لازمی ہے۔

ان خیالات کا اظہار صوبائی خاتون محتسب پنجاب نبیلہ خان ایڈوکیٹ نے یونیورسٹی آف ساہیوال میں وومن پراپرٹی رائٹ ایکٹ اینڈ ہراسمنٹ آف وومن ایٹ ورک پلیس ایکٹ کے حوالے سے ہونے والے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ڈپٹی کمشنر محمد اویس ملک، ڈی پی او صادق بلوچ، وائس چانسلر یونیورسٹی آف ساہیوال پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر کے علاوہ یونیورسٹی کے پروفیسرز اور فکیلٹی ممبران نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے خاتون محتسب نبیلہ خان نے بتایا کہ خواتین کو کام کرنے والی جگہ پر سازگار ماحول فراہم کرنے، ہراسانی جیسے واقعات کو روکنے اور خواتین کو وراثتی جائیداد میں حصہ دلانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ خواتین کو انصاف کی جلد فراہمی کیلئے صوبائی خاتون محتسب سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انفورسمنٹ آف وومن پراپرٹی رائٹس ایکٹ 2020 پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور خواتین کو وراثتی جائیداد میں حصہ نہ دینے پر 10سال قید اور 10لاکھ روپے جرمانہ کی سزا مقرر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو ملکر خواتین کو جائیداد میں حصے سے محروم رکھنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے کیونکہ اسلام جائیداد کی تقسیم میں تفریق نہیں کرتا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر محمد اویس ملک نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنائے بغیرترقی وخوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔انہوں نے خواتین کے حقوق اور ان کے تحفظ بارے عوام میں آگہی دینے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ خواتین ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور انہیں اقتصادی طور پر طاقتور بنانا انتہائی ضروری ہے۔

ا نہوں نے کہا کہ ملک کی تعمیر وترقی میں مثبت کردار ادا کرنے والی خواتین کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے۔ڈپٹی کمشنر محمد اویس ملک نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ قانون پر عملدرآمد کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی اور اے ڈی سی آر فوکل پرسن کے طور پر کام کریں گے۔

انہوں نے تجویز دی کہ دیہی علاقوں میں انفورسمنٹ آف وومن پراپرٹی ایکٹ بارے سیمینار کروائے جائیں تاکہ وہاں عوام کو آگہی فراہم کی جا سکے۔ تقریب کے اختتام پر وائس چانسلریونیورسٹی آف ساہیوال پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے صوبائی خاتون محتسب کا شکریہ ادا کیا اور یادگاری شیلڈ پیش کی۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.