سیاحوں کی رہنمائی کے لیے ہڑپہ میں ورکنگ گروپس کی تشکیل

ساہیوال (چیچہ وطنی نیوز – ارشد فاروق بٹ) ڈپٹی کمشنر محمد اویس ملک نے وادی سندھ کی تہذیب کے فروغ اور دنیا کو ہڑپہ سے روشناس کرانے کیلئے ورکنگ گروپس تشکیل دے دیے ہیں۔

یہ گروپ ملکی اور بین الاقوامی سیاحوں کو رہنمائی اور سہولیات کی فراہمی کیلئے ضلعی انتظامیہ کی معاونت کریں گے اور آنے والے سیاحوں کو تمام ضروری سہولیات فراہم کریں گے۔

نوٹیفیکیشن کے مطابق ٹرانسپورٹ کی سہولیات سے متعلق ورکنگ گروپ کے کنوینر سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی واصف یاسین ہونگے .

جبکہ سینئر ٹورازم آفیسر اور ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن ساہیوال کے صدر گروپ کے ممبر ہونگے۔ اسی طرح رہائشی سہولیات کی دستیابی کیلئے قائم ورکنگ گروپ کے کنونیر ایکسائز اینڈ ٹیکیشن آفیسر ہونگے.

جبکہ سینئر ٹورازم آفیسر منصور نبی نور اور ہوٹل اینڈ گیسٹ ہاؤسز ایسوسی ایشن کے صدر ممبر ہونگے۔ مقامی ثقافت کے فروغ کیلئے قائم ورکنگ گروپ کے کنوینر ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز محمد عقیل اشفاق ہونگے.

جبکہ ڈائریکٹر ساہیوال آرٹس کونسل ڈاکٹر سید ریاض ہمدانی، ڈپٹی ڈائریکٹر آرکیالوجی محمد حسن، کیوریٹر ہڑپہ میوزیم احمد نواز ٹیپو، اسسٹنٹ پروفیسر عمران جعفر اور چوہدری نفیس صادق گروپ کے ارکان ہونگے۔

ڈپٹی کمشنر محمد اویس ملک کی طرف سے مارکیٹنگ کیلئے بنائے گئے ورکنگ گروپ کے کنوینر اے ڈی سی ریونیو عاصم سلیم ہونگے. جبکہ ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز محمد عقیل اشفاق، پرنسپل گوتھم محمد شاہد، کالونی اسسٹنٹ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر پی ایچ اے، کامسیٹ یونیورسٹی کے شعبہ مارکیٹنگ کے سربراہ اور سینئر ٹورازم آفیسر ممبران میں شامل ہونگے.

اسی طرح ہڑپہ تہذیب کے فروغ کیلئے لٹریچر تیار کرنے والے ورکنگ گروپ کے کنوینر ڈائریکٹر ساہیوال آرٹس کونسل ڈاکٹر سید ریاض ہمدانی ہونگے.

جبکہ ممبران میں اے سی ریونیو فضائل مدثر،گورنمنٹ کالج کے شعبہ انگلش کے پروفیسر بلال اشرف، شعبہ اردو کی پروفیسر حنا جمشید اور شعبہ ہسٹری کے پروفیسر عمران جعفر اور کیوریٹر ہڑپہ میوزیم احمد نواز ٹیپو ہونگے۔

یہ ورکنگ گروپس ڈپٹی کمشنر محمد اویس ملک کی سربراہی میں وادی سندھ کی تہذیب کی اہمیت اجاگر کرنے اور یہاں آنے والے سیاحوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں گے. جس سے نہ صرف پاکستان میں سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ ساہیوال شہر پوری دنیا میں متعارف ہو گا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.